حیدرآباد،3؍اگست(ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پینے اور آبپاشی کے مقاصد کے لئے دریائے کرشنا کے پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر پیدا شدہ تنازعہ کا قابل قبول طریقہ سے حل نکالے۔ اس معاملہ کی سماعت چیف جسٹس این وی رمنا کی زیر قیادت بنچ نے کی جن کی پیدائش متحدہ آندھراپردیش میں ہوئی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے وضاحت کی کہ وہ اس معاملہ کے قانونی مسائل پر فیصلہ نہیں دے سکتے، تاہم اگر دونوں ریاستیں مذاکرات کے ذریعہ اس تنازعہ کی یکسوئی کرنا چاہتی ہیں تو بنچ اس میں مصالحت کار کا رول ادا کرسکتی ہے۔
چیف جسٹس نے حکومت اے پی کی طرف سے رجوع ہونے والے وکیل دُشینت دوے سے کہا ”میرا تعلق دونوں ریاستوں سے ہے اور میں قانونی طور پر اس معاملہ کی سماعت نہیں کرنا چاہتا۔ تاہم اگر مصالحت کے ذریعہ اس معاملہ کا حل نکالا جاسکتا ہے تو ایسا کیجئے بصورت دیگر ہم کو اس معاملہ کی سماعت دوسری بنچ کے حوالے کرنی پڑے گی“۔
دوے نے اپنی عرضی میں الزام لگایا کہ تلنگانہ حکومت دریائے کرشنا کے پانی کے قانونی حق سے اے پی کے عوام کو محروم کر رہی ہے۔ دوے نے چیف جسٹس کے ریمارکس پر کہا کہ انہیں اس تعلق سے اے پی حکومت سے بات کرنی پڑے گی کیونکہ یہ ایک سیاسی معاملہ بھی ہے۔ دوے نے حال ہی میں آسام اور میزورم کے درمیان سرحد کے تنازعہ کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ملک کی کسی بھی ریاست میں اس طرح کی صورتحال پیدا نہیں ہونی چاہئے۔
تلنگانہ کی طرف سے رجوع ہوتے ہوئے سینئر وکیل سی ایچ ویدیاناتھ نے بنچ جس میں جسٹس سوریہ کانت بھی تھے سے کہا کہ مرکزی حکومت نے اس معاملہ میں مداخلت کی ہے اور عدالت کے فیصلہ کے لئے کچھ بھی نہیں بچا ہے۔ اس پر جسٹس رمنا نے دونوں ریاستوں کے وکلا سے خواہش کی کہ وہ اپنے موکلین کو کسی بھی تیسرے فریق کے بغیر اس معاملہ کے قابل قبول حل کے لئے راغب کروائے۔